Media Coverage

ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے سے ہی مالی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے ، ٹیکس کے نظام کو جدید طرز پر ڈیجیٹلائز کیا جائے ، ٹیکس عملے کی استعدادکاری اور صلاحیت کو بڑھایا جائی
Urdu Point
Wednesday, 16th Oct 2019
Islamabad

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2019ء) ماہرین نے کہاہے کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے سے ہی مالی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس کے نظام کو جدید طرز پر ڈیجیٹلائز کیا جائے اور ٹیکس عملے کی استعدادکاری اور صلاحیت کو بڑھایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل کے اشتراک سے پالیسی ادارہ برائے پائیدار تر قی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے کے موضوع پر پالیسی سمپوزیم کے دوران کیا ۔

 

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل، انٹرنیشنل ٹیکس، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے کہا کہ ٹیکس محصو لات میں اضافہ ابھی بھی ایف بی آر کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔

 

ٹیکس فائلنگ کے طریقہ کار میں بہتری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی بہت ضروری ہے ۔ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایس ڈی پی آئی، ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ ہمیں وفاقی اور صوبائی ٹیکس حکام کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

 

انہوں نے کہا پروگریسو ٹیکس پالیسی مرتب کرنے کے لیے ٹیکس حکام کی بہتر صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کو موثر ڈیجیٹلائزیشن کے نظام کو اپنانے کی بھی ضرورت ہے ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)، ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل، جوناتھن پیل نے کہا کہ پیچیدہ ٹیکس کے نظام کی وجہ سے پاکستان میں اسٹارٹ اپ کلچر فروغ نہیں پا رہا اور اسی وجہ سے کاروبار ی طبقے کی ٹیکس جمع کروانے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ ورلڈ بینک کی لیڈ پبلک سیکٹر ، کلیلیا رونٹیانی نے پاکستان کی مالی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریونیو بڑھانے کے ایک منصوبے کے تحت ورلڈ بینک ایف بی آر کی مدد کررہا ہے تاکہ ملکی ٹیکس آمدنی میں مستقل اضافہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے اور کسٹم انتظامیہ کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ۔

 

کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے، سابق صدر، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی)، محسن خالد نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیکس اتھارٹی کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ پالیسی سمپوزیم میں اوورسیز انویسٹمنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم ای) ، جی آئی زیڈ پاکستان، پنجاب ریونیو اتھارٹی، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سیڈ وینچرز، جے آئی سی اے پاکستان، سمیڈا، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ مینجمنٹ اکانٹنٹس آف پاکستان، نیاٹیل، پاکستان بزنس کونسل، یو ایس ایڈ کے نمائندوںنے بھی شرکت کی۔
 
Source: https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-10-16/news-2103882.html