توانائی ، پانی سمیت قدرتی وسائل کا تحفظ ناگزیر ہے، صدر علوی
اسلام آباد: ( ) صدر ِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قوم ماحولیاتی توازن بر قرار رکھنے کےلئے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے استعمال میں اعتدال برتنا ہو گا تاکہ آئندہ نسل سبق حاصل کر سکے۔ قدرتی وسائل کے استعمال میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے رویوں میںتبدیلی لانا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے دوران مقامی ہوٹل میں کیا۔ کانفرنس ایس ڈی پی آئی اور یونسکیپ کے تحت جنوبی ایشیائی اعلیٰ سطح فورم کے اختتامی روز کیا ۔ انہوں نے کرونا وباءکے حوالے سے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے کسی بڑی وبائی مرض کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جو کہ کافی مہلک اور نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طبی تحقیق میں جدت آنے کے باوجود ایک معمولی جرثومہ نے انسانی زندگی کو یکسر ابتری میں مبتلا کر دیا۔ اس حوالے سے مزید بتایا کہ کرونا وباءکا ابھی مکمل خاتمہ نہیں ہوا تاہم اس کے خطرات ابھی بھی سروں پر منڈلارہے ہیں اس لئے ابھی بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے حوالے سے کہا کہ ہمیں اپنے طرز زندگی سمیت اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔ ورنہ خطرات انتہائی مہلک صورت حال اختیار کر سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ قدرتی وسائل کے استعمال میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندان و معاشرے کے تحفظ و ترقی کے لئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس سے موسمی تبدیلی کے خطرات سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ صدر عار ف علوی نے تنبیہ کرتے ہوئے کہ کہ بڑھتی ہوئی آبادی تشویشناک امر ہے جس پر قا بو پانے کے لئے بلا ججھک ماہرین سے مشاورت کا عمل ہونا چاہئے اور اس حوالے سے غلط فہمیوں کا تدارک کرنا چاہئے۔ انہو ں نے نے شعبہ زراعت کے حوالے سے کہا کہ نیدر لینڈ پاکستان سے 19گنا چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اس شعبہ میں انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا بھر میں زرعی اجناس کے دوسرے بڑے ایکسپوٹر کے طور پر اپنا لوہا منوا رہا ہے جبکہ پاکستان کو بھی اس شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال پر خود سے توجہ دینے کے ساتھ نوجوان نسل کو بھی راغب کیا جائے تا کہ ذہنی تناو¿ میں کمی لائی جا سکے اور مثبت اندازِفکر کو فروغ دیا جا سکے۔ کانفرنس کی خصوصی نشست سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ کرونا وباءکے دوران سمارٹ لاک ڈاو¿ن جیسے اقدامات سے کافی مدد ملی اور پائیدار عالمی اہداف کی تکمیل میں مدد ملی۔ اس سے انسانی جانوں کے ضیاع او رمعیشت کو تحفظ میسر آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کے باعث غذائی اجناس سمیت متعدد اشیاءکی قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 345ملین تک پہنچ چکی ہے جو 2023 ءتک50 ملین افراد قحط کی زد میں آجائےں گے۔ کانفرنس کے حوالے سے بتایا کہ 17 سے زائد ممالک سے سیکٹروں مندوبین نے شرکت کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس میں کارپوریٹ کے شعبہ سے سٹیٹ بنک آف دی پنجاب نے پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کی تکمیل اور حکومت پاکستان نے بھر پور معاونت کی۔ اس موقع پر یونائیٹڈ نیشن اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ایشیا ءاینڈ پیسفک (ESCAP) جنوب مغربی ایشیاءکی سر براہ میکیکو ناناکا کرونا کی تاریکی کے بعد روشنی کی کرن نظر آرہی ہے۔ روس یوکرائن تنازعہ کے باعث پوری دنیا متعدد مشکلات کا شکار ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ باہمی تعاون اور ترجیحی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی بورڈ کے چیئر پرسن ایمبیسڈر شفقت کاکا خیل نے تعارفی کلمات میں کانفرنس کے دوران بین الاقوامی مسائل کو پاکستان میں زیر بحث لانا یہاں کے عوام کو معلومات و علم کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے.